ماہِ جمادی الاولیٰ کا عظیم کارنامہ

ماہ جمادی الاولیٰ

 

 


تحریر:  علی احمد مظہری

مدرس جامعہ فریدیہ ساہیوال  

 

اسلام کی تاریخ قربانی، شجاعت اور ایمان کی لازوال داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ دینِ حق صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا نظامِ حیات ہے جو انسان کو ظلم و باطل کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ جب ایمان دل میں رچ بس جاتا ہے تو مومن کی نگاہ میں دنیا کی کوئی طاقت، کوئی لشکر اور کوئی تاج و تخت اس کے عزم و یقین کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ ایسے ہی ایمانِ کامل اور اخلاصِ نیت کا مظہرتھی جنگِ مؤتہ ، وہ معرکہ جس میں عددی برتری کے باوجود دشمن کی صفوں کے سامنے اسلام کے جانبازوں نے ثابت کر دیا کہ حق کا علم کبھی سرنگوں نہیں ہوتا۔

آج نگاہِ فلک اِک عجب منظر دیکھ رہی تھی ، دو لاکھ کے ظالم اور متکبردشمن کے مقابلے کے لئے  3ہزار کا مختصر مٹھی بھر دستہ دینِ مصطفوی کی خاطر رواں دواں تھا ، ان کے ہر اٹھتے قدم پر وقت انگشت بدنداں تھا ، آخر یہ کون ہیں جنہیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں ، نہ تو بہت زیادہ اسلحہ پاس ہے اور نہ ہی گھوڑوں اور سواریوں کی کثرت ، اپنے گھروں سے ایک ہزار کلو میٹر  سے بھی زیادہ فاصلے کی دوری پر جانوں کے نذرانے راہِ خدا میں دینے کے لئے بے تاب چلتے جارہے ہیں۔ آسماں کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئی ہوں گی کہ غزوۂ بدر میں 1000کے مقابلے میں 313 تو دیکھے تھے ، غزوۂ اُحد میں 3000 کے مقابلے میں 700 تو دیکھے تھے ، غزوۂ خندق میں مدینۂ طیبہ کے صرف 3000 مجاہدین پر 10ہزار کے لشکر کو حملہ آور ہوتے تو دیکھا تھا ، لیکن آج تو حد ہی ہوگئی تھی ، ایک کے مقابلے میں 66 دشمن اور وہ بھی اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔ جی ہاں! یہ جنگِ موتہ کا منظر ہے جہاں رومی اور عرب عیسائیوں کے دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ  صرف 3ہزار مسلمان ٹکرا گئے تھے۔[1]

پسِ منظر:

حضور نبی رحمت ﷺنے حضرت حارث بن عمیر  رضی اللہ عنہ  کو سفیر و قاصد بنا کر قیصرِ روم کے نام ایک خط دے کر روانہ فرمایا۔ راستے میں قیصرِ روم کے ایک امیر شرحبیل بن عمرو غسانی نے حُضورِ اکرم  ﷺکے اس قاصد کو روک کر پوچھا : “ کیا تم محمد ﷺ) کے قاصد ہو؟ “ انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو اس بدبخت نے قاصدِ رسول کو رسیوں میں باندھ کر نہایت بےدردی کے ساتھ شہیدکردیا۔ اس حادثہ سے رسولِ کریم ﷺکو بہت صدمہ پہنچا۔[2]

لشکر کی تیاری و روانگی:

آپ  نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر تیار فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے سفید رنگ کا جھنڈا باندھ کر حضرت زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ میں دیتے ہوئے انہیں فوج کا سپہ سالار بنا کر روانہ فرمایا اور فرمادیا تھا کہ ان کی شہادت ہوجائے تو قیادت حضرت جعفر ( رضی اللہ عنہ ) کریں گے اور پھر ان کے بعد حضرت عبدُاللہ بن رَواحہ   رضی اللہ عنہ  اور ان کے بعد جسے مسلمان  منتخب کرلیں۔ [3]

اس مٹھی بھر لشکر  کو رخصت کرنے کے لئے جنابِ رحمتِ عالَم  ﷺخود “ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع “ تک تشریف لے گئے اور لشکر کے سپہ سالار کو حکم فرمایا کہ تم ہمارے قاصد حارث بن عمیر (رضی اللہ عنہ ) کی شہادت گاہ میں جاؤ۔ پہلے وہاں کے کفار کو اسلام کی دعوت دینا ، اگر وہ لوگ اسلام قبول کرلیں تو بہتر  ورنہ تم اللہ کریم  کی مددطلب کرتے ہوئے ان سے جہاد کرو۔[4]

حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا ایمان افروز خطبہ اور اہلِ ایمان کو دعوتِ فکر:

جب یہ حضرات موتہ کے مقام پر پہنچے ( جو آج کا اردن کا علاقہ  ہے ) تو پتا چلا کہ ہمارے مقابلہ میں سپر پاور کی نگرانی میں 2 لاکھ رومی فوجی اسلحہ سے لیس  ہو کر کھڑے ہیں تو باہمی مشاورت ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے اس پریشان کن موقع پر حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ایک عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا جو آج بھی امت مسلمہ کیلئے ثابت قدمی کا عظیم مظہر ہے اور امت کو ثابت قدمی کا عظیم درس دیتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا۔

يَا قَوْمِ : وَاللَّهِ إِنَّ الَّتِي تَكْرَهُونَ لَلَّتِي خَرَجْتُمْ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةُ 

یعنی اے میری قوم! اللہ کی قسم، تم شہادت کی آرزو میں ہی تو گھروں سے نکلے ہو ، اب اُس سے ڈرنا کیا ؟

وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ وَلَا قُوَّةٍ وَلَا كَثْرَةٍ مَا نُقَاتِلُهُمْ إِلَّا بِهَذَا الدِّينِ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللهُ بِهِ۔ 

یعنی ہم دشمنوں سے کبھی بھی تعداد ، طاقت اور کثرت کے بل بوتے پر جنگ نہیں کرتے ، ہم تو اس دین کے سہارے جہاد کرتے ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت عطا فرمائی ہے۔

فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ : إِمَّا ظُهُورُ وَإِمَّا شَهَادَةً۔

یعنی سینہ تان کر میدان کی طرف چلو ! دو بھلائیوں میں سے ایک نصیب ہو جائے گی یا تو اللہ تعالی فتح عطا فرمائے گا یا جام شہادت نوش کر کے سر خرو ہو جائیں گے۔

یہ ایمانی گفتگو سن کر سب نے کہا :

 قَدْ وَالله صَدَقَ ابْنُ رَوَاحَةَ .

 قسم بخدا ! عبد اللہ بن رواحہ بالکل سچ فرمارہے ہیں۔[5]

جنگی حالات:

سپہ سالارِ رسول حضرت زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ  نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے کُفّار کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے جارحانہ حملہ شروع کردیا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ  رضی اللہ عنہ  گھوڑے سے اتر کر میدانِ جنگ میں کُود پڑے ، ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی نہایت جوش و خروش کے ساتھ لڑنا شروع کردیا ، کافروں نے آپ  رضی اللہ عنہ  پر نیزوں اور بَرچھیوں کی برسات کردی یوں آپ  رضی اللہ عنہ  جوانمردی سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔[6]

حضرت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد قیادت والا پرچم حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو ملا   تو آپ کے دل میں شیطان نے موت سے نفرت اور دنیا کی لالچ پیدا کی تو آپ کے فرمایا: مؤمنین کے دلوں میں ایمان پختہ ہونے کا وقت تو اب ہے اور تو مجھے دنیا کی لالچ دے رہا ہے۔[7] یہ کہہ کر آپ دشمنوں پر ٹوٹ پڑے لڑتے لڑتے آپکا ایک بازو کٹا پھر جھنڈا دوسرے میں لیا وہ کٹا تو گود میں لیا کفارِ ناہنجار نے اور وار کئے اور آپ کا جسمِ مبارک دو حصے کردیا یوں  رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے یہ عظیم مجاہد صرف 33سال کی جواں عمر میں جامِ شہادت نوش کرگئے۔ آپ  رضی اللہ عنہ   کے جسم کے ایک حصے پر 80سے زیادہ زخموں کے نشانات تھے۔[8]ان کٹے ہوئے بازوؤں کی وجہ سے آپکو دو پر عطا کئے گئے اسی وجہ سے آپکو جعفر طیار کہا جاتا ہے۔[9]

حضرت سیّدُنا جعفر  رضی اللہ عنہ  کی شہادت ہوگئی تو مسلمانوں نے پکارا : ’’ یا عبدَاللہِ بْنَ رَوَاحہ“ اس وقت آپ لشکر کی دوسری جانب تھے اور تین دن سے بھوکے تھے ، اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا کھانے کے لئے ہاتھ میں پکڑا ہی تھا کہ حضرت سیّدُنا جعفر  رضی اللہ عنہ   کی شہادت کا سُن کر بےتاب ہوکر اسے   چھوڑ دیا اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے : اے عبداللہ! جعفر شہید ہوگئے اور تیرے پاس ابھی تک دنیاوی شے ہے ، فوراً پرچم ِاسلام ہاتھ میں لیا اور لشکر کی کمان سنبھال کر بےجگری سے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے ، لڑتے لڑتے انگلی کٹ گئی تو فرمایا : ابھی صرف انگلی کٹی ہے اور یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے ، اے نفس! آگے بڑھ ورنہ موت کا فیصلہ تجھے قتل کرڈالے گا اور تجھے ضرور موت دی جائے گی۔ پھر انتہائی دلیری اور جاں بازی کے ساتھ لڑنے لگے بالآخر زخموں سے نڈھال ہوکر زمین پر گر پڑے اور جامِ شہادت نوش کرگئے۔[10]

حضور علیہ السلام کی نگاہِ نبوت :

رسولِ کریم  ﷺنے جب مدینۂ منورہ سے روانہ فرمایا تھا  اور ایک کے بعد دوسرے کو قیادت کرنے کی وصیت فرمائی تھی تو وہیں ایک “ نعمان “ نام کا یہودی بھی یہ سب سُن رہا تھا ، اس نے کہا: “ اے ابوالقاسم! اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ تینوں ضرور شہید ہوں گے ، کیونکہ بنی اسرائیل کے نبی جب یوں کسی کا نام لیتے تھے اگر سو افراد کا نام بھی لے دیتے تو وہ سبھی شہید ہوتے تھے۔“[11]

تینوں معزز صحابہ کی شہادت کے بعد حضرت سیّدُنا ثابت بن ارقم  رضی اللہ عنہ  نے جھنڈا اٹھا لیا اور مسلمانوں کو آواز دے کر فرمایا کہ اپنے میں سے کسی کو سپہ سالار چُن لو ، تو مسلمانوں نے فوراً حضرت خالد بن ولید کو چُن لیا اور لشکر کی قیادت ان کے سپرد کردی۔[12]

ادھر حضرت خالد بن ولید نے جھنڈا تھاما اور ادھر غیب کی خبریں دینے والے رسولِ کریمﷺ  نے یہاں سے ایک ہزار کلومیڑ سے بھی زیادہ دوری پر مدینۂ طیبہ میں منبرِ مسجد نبوی پر بیٹھے ہوئے فرمایا : “ اب جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار یعنی خالد بن ولید کے ہاتھ میں ہے۔ “ [13]

عظیم الشان فتح :

حضرت خالد بن ولید نے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو جمع کیا ،  لشکر کی ترتیب تبدیل کرتے ہوئے دائیں ، بائیں اور آگے پیچھے کے مجاہدین کی آپس میں جگہ بدل دی ، دشمن نے سمجھا شاید مسلمانوں کو مزید مدد مل گئی ہے  جس سے ان کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا اور وہ شکست کھاتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے۔[14]

مسلمانوں نے شدید لڑائی لڑی ، یہاں تک کہ صرف حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ میں اس دن نو تلواریں ٹوٹیں ۔[15]اور یہ جنگ سات دن تک جاری رہی۔ [16]دو لاکھ کے مقابلے میں صرف تین ہزار کا لشکر سات دن تک ڈٹا رہا اور صرف تیرہ مجاہدین شہید ہوئے۔ سات دن کے بعد  جب دشمن کا لشکر ہزیمت اٹھاتا ہوا  پیچھے ہٹنے لگا تو حضرتِ سیّدُنا خالد بن ولید  رضی اللہ عنہ  نے بھی کمال حکمت و دانائی سے کام لیتے ہوئے  لشکر کو پیچھے ہٹانا شروع کیا ، دشمن کی خود سے 66گنا زیادہ تعداد کے ساتھ ٹکرانا ، سات دن تک ڈٹے رہنا ، صرف 13 مجاہدین کا شہید ہونا ، پھر دشمنِ لشکر کا پلٹ کر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرسکنا اور حضرت خالد بن ولید کا اپنے لشکر کو صحیح وسالم مدینۂ طیبہ لے آنا کسی واضح و بین فتح و کامیابی سے کم نہیں ہے۔[17]

خلاصۂ کلام :

جنگِ مؤتہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس میں صرف تین ہزار جان نثاروں نے دو لاکھ کے لشکر کے مقابلے میں ایمان، اخلاص اور اطاعتِ رسول ﷺ کے بل پر وہ کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گیا۔ ان کے پاس نہ ساز و سامان کی فراوانی تھی، نہ دنیاوی طاقت و وسائل، مگر دلوں میں اللہ کی رضا اور دینِ اسلام کی سربلندی کا یقین موجزن تھا۔ یہی ایمان کی حرارت تھی جس نے انہیں فتح و عزت سے ہمکنار کیا۔ مؤتہ کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ اگر امتِ مسلمہ اسی جذبۂ ایمانی، اسی سچے یقین اور اطاعتِ رسولﷺ کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

حوالہ جات :


[1]                      معجم  الکبیر ، 13 / 132 ، رقم : 428 ، سيرت ابنِ ہشام ، ص457 ، دلائل النبوة للبیھقی ، 4 / 360
[2]                       مواھب لدنیہ ، 1 / 301
[3]                      سیرت حلبیہ ، 3 / 96
[4]                      مواھب لدنیہ ، 1 / 301
[5]                      سیرت ابن ہشام، ج: 2، ص: 375 ، مصطفی البابی- المعجم الكبير للطبرانی، ج: 13 ، ص: 181، رقم : 428
[6]                      شرح ابی داؤد للعینی ، 6 / 41 تا 42 ، تحت الحدیث : 1557 ملخصاً ، سیرتِ مصطفیٰ ، ص404
[7]                      دلائل النبوۃ لابی نعیم ، جز2 ، 1 / 316
[8]                       مواھب لدنیہ ، 1 / 301 ، تاریخ الخمیس ، 2 / 459
[9]                       الترغیب والترہیب ، 2 / 206
[10]                    تاریخ الخمیس ، 2 / 459
[11]                    دلائل النبوۃ لابی نعیم ، جز2 ، 1 / 316
[12]                    سیرت حلبیہ ، 3 / 97
[13]                    بخاری ، 3 / 96 ، حدیث : 4262 ، مسند احمد ، 37 / 257 ، حدیث : 22566
[14]                     دلائل النبوة للبیھقی ، 4 / 370
[15]                    بخاری ، 3 / 97 ، حدیث : 4265
[16]                    سبل الھدیٰ والرشاد ، 6 / 151
[17]                     زرقانی علی المواھب ، 3 / 348ملخصاً

 

1 thought on “ماہِ جمادی الاولیٰ کا عظیم کارنامہ”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top